علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 119
دِل سوزاں پہ جیسے دست شبنم رکھ دیا دیکھو
علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو
سنا ہے گرد راہِ بوترابؑ آنے کو ہے سر پر
سو میں نے خاک پر تاجِ مئے و جم رکھ دیا دیکھو
سخی داتا سے انعامِ قناعت میں نے مانگا تھا
مرے کشکول میں خوان دو عالم رکھ دیا دیکھو
ملا فرماں سخن کے ملک کی فرماں روائی کا
گدا کے ہاتھ پر آقا نے خاتم رکھ دیا دیکھو
طلسمِ شب مری آنکھوں کا دشمن تھا سو مولاؑ نے
لہو میں اِک چراغِ اِسم اعظم رکھ دیا دیکھو
کھلا آشفتہ جانوں پر علم مشکل کشائی کا
ہوائے ظلم نے پیروں میں پرچم رکھ دیا دیکھو
شہِ مرداںؑ کے در پر گوشہ گیری کا تصدق ہے
کہ میں نے توڑکر یہ حلقۂ رم رکھ دیا دیکھو
مجھے اس طرح نصرت کی نوید آئی کہ دم بھر میں
اُٹھاکر طاق پر سب دفترِ غم رکھ دیا دیکھو
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s