اے زمیں توُ اس اندھیرے کا ستارا ہے کہ ہم

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 106
بیکراں رات میں توُ انجمن آراء ہے کہ ہم
اے زمیں توُ اس اندھیرے کا ستارا ہے کہ ہم
اُس نے پوچھا تھا کہ سر بیچنے والا ہے کوئی
ہم نے سر نامۂ جاں نذر گزارا ہے کہ ہم
کیا خبر کون زوالِ شبِ ہجراں دیکھے
ہاں، چراغِ شبِ ہجراں کا اشارا ہے کہ ہم
تو ادھر کس کو ڈبونے کے لیے آئی تھی
دیکھ اے موج بلاخیز، کنارا ہے کہ ہم
آج تک معرکۂ صبر و ستم جاری ہے
کون جانے یہ تماشا اُسے پیارا ہے کہ ہم
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s