اسی چراغِ جہانِ دگر کے نام تمام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 103
یہ درد رات مرے بے خبر کے نام تمام
اسی چراغِ جہانِ دگر کے نام تمام
کبھی جو زحمتِ کارِ رفو نہیں کرتا
ہمارے زخم اسی چارہ گر کے نام تمام
وہ ایک خواب سہی سایۂ سراب سہی
یہ عمر بھر کی تھکن اک شجر کے نام تمام
کسی نے بند کیا ہم پہ اپنے نام کا رزق
تو ہم بھی بھول گئے خشک و تر کے نام تمام
یہ ربطِ حرف و حکایت اسے قبول نہیں
تو اب ہمارے یہ خط نامہ بر کے نام تمام
یہ پھول جس نے کھلائے ہمارے پت جھڑ میں
اسی کے موسمِ برگ و ثمر کے نام تمام
اس ایک نام نے بخشا ہے جو خزانۂ درد
وہ ہم نے وقف کیا بحر و بر کے نام تمام
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s