میری بستی کسی صحرا میں بسادی گئی کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 76
وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اُٹھا دی گئی کیا
میری بستی کسی صحرا میں بسادی گئی کیا
وہی لہجہ ہے مگر یار ترے لفظوں میں
پہلے اک آگ سی جلتی تھی‘ بجھا دی گئی کیا
جو بڑھی تھی کہ کہیں مجھ کو بہا کر لے جائے
میں یہیں ہوں تو وہی موج بہادی گئی کیا
پاؤں میں خاک کی زنجیر بھلی لگنے لگی
پھر مری قید کی میعاد بڑھادی گئی کیا
دیر سے پہنچے ہیں ہم دور سے آئے ہوئے لوگ
شہر خاموش ہے‘ سب خاک اُڑا دی گئی کیا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s