اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 96
درد کی شب گزر گئی تیرے خیال کے بغیر
اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر
وقت کے ساتھ طے کیے ہم نے عجیب مرحلے
کچھ مہ و سال کے بہ فیض، کچھ مہ و سال کے بغیر
میرے سکوت نے عیاں رنجِ کہن کیا نہیں
میں نے سخن کیا نہیں پرسشِ حال کے بغیر
تیغِ ستم کے سامنے ہاتھ کو ڈھال کر دیا
ہم نے کمال کردیا دستِ کمال کے بغیر
چار طرف رمیدہ خو، پائے ہوا، صدائے ہو
میرے بغیر لکھنؤ، دشت غزال کے بغیر
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s