میں شہر چھوڑ بھی دیتا تو جی بہلتا کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 70
ہر ایک دشت میں گھر بن گئے، نکلتا کیا
میں شہر چھوڑ بھی دیتا تو جی بہلتا کیا
چراغ بام تھا اپنی بساط تھی معلوم
سو رائیگاں کسی طاق ابد میں جلتا کیا
مجھے زوال کا خطرہ نہ تھا کہ مہر سخن
ابھی طلوع ہوا ہی نہیں تو ڈھلتا کیا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s