لو، ایک نیا سنگِ گراں راہ میں آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 62
پھر وہم دلِ یار کم آگاہ میں آیا
لو، ایک نیا سنگِ گراں راہ میں آیا
دُنیا نے تو آغوشِ ہوس کی تھی کشادہ
کچھ میں ہی نہ اس حلقۂ کوتاہ میں آیا
دل سکۂ زر تھا کہیں مقتل میں ہوا گم
اک کاسۂ سر نذرِ شہنشاہ میں آیا
اک درد نیا سینۂ پُرشور میں جاگا
ایک اور رجز خواں صفِ جنگاہ میں آیا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s