روک لیتی ہے ہمیں آب و ہوائے دریا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 67
خیمہ کرتے نہیں ہم لوگ ورائے دریا
روک لیتی ہے ہمیں آب و ہوائے دریا
پھر سرشام وہی رنگ تماشا ہو گا
موج خوں ہوتی ہے پھر راہ نمائے دریا
لشکروں سے کہیں رکتی ہے روانی اس کی
سر سے گزرے گا ابھی سیل بلائے دریا
ایک رخ اور بھی ہے پانی کی طغیانی کا
دشت جل جاتے ہیں جب کھیل دکھائے دریا
جانے اس خاک جگر چاک پہ کیا گزری ہے
زخم ہے سینۂ گیتی پہ بجائے دریا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s