اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 72
کہیں تو لٹنا ہے پھر نقدِ جاں بچانا کیا
اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا
اِن آندھیوں میں بھلا کون اِدھر سے گزرے گا
دریچے کھولنا کیسا، دیئے جلانا کیا
جو تِیر بوڑھوں کی فریاد تک نہیں سنتے
تو اُن کے سامنے بچوں کا مسکرانا کیا
میں گر گیا ہوں تو اب سینے سے اُتر آؤ
دلیر دشمنو، ٹوٹے مکاں کو ڈھانا کیا
نئی زمیں کی ہوائیں بھی جان لیوا ہیں
نہ لوٹنے کے لیے کشتیاں جلانا کیا
کنارِ آب کھڑی کھیتیاں یہ سوچتی ہیں
وہ نرم رو ہے ندی کا مگر ٹھکانا کیا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s