نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 35
اب کے برس کیا موسم ہے دل جنگل کی ویرانی کا
نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا
صبح تلک جینا تھا سو ہم نے بات کو کیا کیا طول دیا
اگلی رات کو پھر سوچیں گے اگلا موڑ کہانی کا
اور کسی کی ملک ہے بھائی‘ جس پر دونوں قائم ہیں
تکیہ میری فقیری کا اور تخت تری سلطانی کا
جسم کا شیشہ کاجل کرتی کالی رات خرابی کی
آنکھوں کی محراب میں روشن، چہرہ اک سیدانی کا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s