سخن دیا ہے تو حسن قبول بھی دے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 43
وہ جس نے پود لگائی ہے پھول بھی دے گا
سخن دیا ہے تو حسن قبول بھی دے گا
ابھی تو اور جلو گے اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اس کو طول بھی دے گا
کبھی تو کوئی پڑھے گا لکھا ہوا میرا
کبھی تو کام یہ شوق فضول بھی دے گا
پناہ چاہو تو پھر پیرہن بچاؤ نہیں
جو راستہ تمہیں گھر دے گا، دھول بھی دے گا
وہی بچائے گا تم کو، اور امتحاں کے لیے
وہی کبھی کوئی چھوٹی سی بھول بھی دے گا
بچا بھی لے گا وہ کچھ آزمائشوں سے تمہیں
اور امتحاں کے لیے کوئی بھول بھی دے گا
چلیں تو پیاس کہاں اور آبلے کیسے
وہ دشت اوس بھی دے گا، تو پھول بھی دے گا
MERGED وہ جس نے باغ اُگایا ہے پھول بھی دے گا
دیے ہیں لفظ تو حسنِ قبول بھی دے گا
یہ لَو سنبھال کے رکھو اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اِس کو طول بھی دے گا
مسافرت میں ہیں کیا پیرہن کی فکر کریں
جو راستہ ہمیں گھر دے گا دُھول بھی دے گا
زمانہ مجھ کو سکھا دے گا جنگ کے آداب
وہ زخم ہی نہیں دے گا اُصول بھی دے گا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s