دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 42
یہ باغ جس نے اُگایا ہے پھول بھی دے گا
دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا
بچا بھی لے گا بڑی آزمائشوں سے مگر
وہی کبھی کوئی چھوٹی سی بھول بھی دے گا
چلیں تو پیاس کہاں اور آبلے کیسے
یہ دشت اوس بھی دے گا، ببول بھی دے گا
ابھی سے لو نہ بڑھاؤ اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اس کو طول بھی دے گا
مسافروں کو کہاں آتا پیرہن کا خیال
جو راستہ ہمیں گھر دے گا، دھول بھی دے گا
کبھی تو سمجھے گا کوئی لکھا ہوا میرا
کبھی تو کام یہ شوق فضول بھی دے گا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s