بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 30
تجھ کو بھی اے ہوائے شب جی کا زیاں بہت ہوا
بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا
رختِ سفر اُٹھا گیا کون سرائے خواب سے
رات پھر اس نواح میں گریۂ جاں بہت ہوا
موسمِ گل سے کم نہ تھا موسمِ انتظار بھی
شاخ پہ برگِ آخری رقص کناں بہت ہوا
کوئی افق تو ہو کہ ہم جس کی طرف پلٹ سکیں
شام ہوئی تو یہ خیال دل پہ گراں بہت ہوا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s