عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 10
پکارتا ہے مگر دھیان میں نہیں آتا
عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا
بس ایک نام ہے اپنا نشاں، جو یاد نہیں
اور ایک چہرہ جو پہچان میں نہیں آتا
میں گوشہ گیر ہوں صدیوں سے اپنے حجرے میں
مصافِ بیعت و پیمان میں نہیں آتا
مجھے بھی حکم نہیں شہر سے نکلنے کا
مرا حریف بھی میدان میں نہیں آتا
میں اس ہجوم میں کیوں اس قدر اکیلا ہوں
کہ جمع ہو کے بھی میزان میں نہیں آتا
مرے خدا، مجھے اس آگ سے نکال کہ تو
سمجھ میں آتا ہے، ایقان میں نہیں آتا
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s