خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 6
اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ
خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ
میں بھی اَے سرخئ بے نام تجھے پہچانوں
توُ حنا ہے کہ لہو، پیکرِ تصویر میں آ
اُس کے حلقے میں تگ و تاز کی وسعت ہے بہت
آہوئے شہر، مری بانہوں کی زنجیر میں آ
چارہ گر خیر سے خوش ذوق ہے اَے میری غزل
کام اَب تو ہی مرے درد کی تشہیر میں آ
وہ بھی آمادہ بہت دِن سے ہے سننے کے لیے
اَب تو اَے حرفِ طلب معرضِ تقریر میں آ
ایک رنگ آخری منظر کی دَھنک میں کم ہے
موجِ خوں، اُٹھ کے ذرا عرصۂ شمشیر میں آ
عرفان صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s