قوس

قوس پھوٹی ہے یوں

شاعر وقت کے دست تخلیق سے

جیسے تپتے ، جھلستے تھپیڑوں کے

آنچل سے لپٹی ہوئی

دھیمے احساس کی نرم کونپل کہ جو

سر اُٹھاتے ہی موسم کا رُخ پھیر دے

جذب کے ایک مدھم بہاؤ پہ احساس کی ڈولتی ناؤ

اور وقت کی تال پر رقص کرتی ہوئی

اپسرا کے بدن سے اُمڈتی ہوئی کوئی انمٹ ادا

قوس پھوٹی ہے یوں

جیسے سانسوں کی تازہ حرارت تلے

پھر سے سہمے ہوئے دل دھڑکنے لگیں

خواب پلکوں کے گیلے کناروں پہ

چپکے سے آ کے بسیرا کریں

تو نگاہوں میں پھر سے وہی

زندگی کی چمک جاگ اُٹھے

کھو گئی جو زمانے کے اس پھیر میں

قوس تیرے مرے جذب کی ترجماں

خواہشوں کا بیاں

آرزو کی زباں

دوستو ہم تو لمحوں کی دیوار پر

شام سرما کی ڈھلتی ہوئی دھوپ ہیں

جانے کل ہوں نہ ہوں

پر ہماری سبک چاہتوں کے نشاں

قوس کے زندہ حرفوں میں سمٹے ہوئے

دُور تک جائیں گے

آنے والے زمانوں کے احساس کا

رنگ کہلائیں گے!!!

گلناز کوثر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s