سالگرہ

تن کی مٹی

اور بھی کومل

اُلجھے سلجھے

ریشم میں

چاندی کے ڈورے

اور نمایاں

اور بھی گہری

سوچ کی سلوٹ

نینوں میں

سپنوں کا سایہ

ہلکا ، مدھم

اندر پھیلا

درد کا بادل

اور بھی میلا

اور بھی گہرا

چلتے چلتے

دُور کہیں اِک

منظر پگھلا

تارا نکلا

وقت کے ہاتھ سے

دھیرے دھیرے

ایک برس کا

سکہ پھسلا

شام اترتی رہی

گلناز کوثر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s