رات کے بعد …

وقت کی سرمئی نگاہوں میں

گُھل رہی ہیں بڑی خموشی سے

رات کی ڈوبتی ہوئی سانسیں

اُلجھے اُلجھے ہوئے مرے دل سے

دُھل رہی ہیں نشاط کی گھڑیاں

کھڑکیوں سے پرے لرزتی ہے

چاپ اِک ملگجے اُجالے کی

گرم کمرے سے رات کی مہماں

دل رُبا ساعتیں پلٹتی ہیں

سازِ جاں تھک کے سو گیا ہے کہیں

تھم چکی کب سے آرزوئے حیات

دیر سے چُپ، اُداس ، رنجیدہ

پھر کسی سوچ سے گریزاں ہوں

ڈوبتا چاند اِک تسلسل سے

ذہن کے آہنی دریچوں پر

سہمے سہمے خیال دھرتا ہے

اور بکھرا ہوا یہ شب خانہ

مجھ سے ڈھیروں سوال کرتا ہے …

گلناز کوثر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s