خاک زادوں کے بس میں کہاں

اِس سے پہلے تو ہر سُو جھلستی ہوئی زندگی

ظلمتوں کے بدن میں دھڑکتی تھی اور دُور گرتی تھیں

سہمے ہوئے وقت کے تھال پر سسکیاں

اُٹھ رہا تھا کہیں ضبط گر آنکھ کی پُتلیوں سے دھواں

کانپتی تھی زمیں، زرد تھا آسماں

اور فضاؤں پہ چھایا ہوا خوف کا سائباں

اس سے پہلے کہیں گُل مہکتے نہ تھے، دل چہکتے نہ تھے

اور بھٹکتے تھے صحرا نوردوں کے بے سمت و در کارواں، الاماں، الاماں

پھر مگر اِس تپکتے ہوئے آسماں کے تلے ایک جھونکا چلا

ایک جھونکا چلا تو بدلنے لگا ہے سماں

چھٹ گئیں ظلمتیں، مٹ گیا گدلی ، بے رنگ آنکھوں سے سہمے ہوئے

خوف کا ہر نشاں …

خاک زادوں کے بس میں کہاں

چھو سکیں رفعت بندگی

کہہ سکیں حرف بھی ذات ارفع کے شایان شاں، لڑکھڑاتی زباں

ہم خطاکار، بے دست، بھٹکے ہوئے

خاک زادوں کے بس میں کہاں

ریگ زاروں پہ کُھل کے برستی ہوئی … رحمتوں کا بیاں

خاک زادوں کے بس میں کہاں

گلناز کوثر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s