تتلی سے ۔ TO A BUTTERFLY by William Wordsworth

Stay near me – do not take thy flight

A little longer stay in sight!

Much converse do I find in thee،

Historian of my infancy!

Float near me: do not yet depart!

Dead times revive in thee:

Thou bring’st، gay creature as thou art!

A solemn image to my heart

My father’s family!

Oh! pleasant، pleasant were th days،

The time when in our childish plays،

My sister Emmeline and I

Together chased the butterfly!

a very hunter did I rush

Upon the prey؛ — with leaps and springs

I followed on from brake to bush؛

But she، God lover her! feared to brush

the dust from off its wing

تتلی سے

ذرا رُکو میری خالی آنکھوں

کے آئینوں میں

تمہی سے روشن ہوئے ہیں

گزرے حسیں دنوں کے چراغ

ٹھہرو، ابھی نہ جاؤ

تمہی وہ خوش رُو ہو

جس سے ماضی کی

مُردہ شاخیں ہری ہوئی ہیں

ہمارے گاتے ، لُبھاتے بچپن

کا شوخ منظر

انہی ہواؤں میں ڈولتا ہے

یہ تم سے بڑھ کر

کسے پتہ ہے

کہ کیسے رنگوں کے لہریوں پر

ہم اپنی حیراں نظر جمائے

تمہارے پیچھے نکل پڑے تھے

میں ایک معصوم دل شکاری

جو اپنی ننھی بہن کی خاطر

یوں جھاڑیوں سے الجھتا کیسے

ہزار جتنوں سے پہنچا تم تک

خداکی اُلفت میں

ننھی کیسی گداز دل تھی

یہ ریشمی رنگ جھڑ نہ جائیں

تمہیں وہ چھونے سے ڈر رہی تھی

گلناز کوثر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s