فون کال

دھوپ اور میں

یہاں دیر سے

یونہی چُپ

اوندھے لیٹے ہوئے

کہ اچانک ہوا اپنے ہاتھوں پہ

لائی ہے مانوس دستک

مہکتا ہوا دھیما لہجہ

بس اِک آن میں کھل اُٹھے

پھول سے خواب

خالی نگاہوں میں

اُترے ہیں رنگین منظر

کھنکتی ہوئی

ایک مدھم ہنسی

دل مرا رقص کرنے لگا

دل مرا رقص کرنے لگا

اور میں نے کہا

آج تو چھو ہی لوں گی

بہت نرم لفظوں میں

بہتے ہوئے ایک احساس کو

میں نے چاہا

بڑھی میں

مگر کچھ نہ تھا

گلناز کوثر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s