یہ لکڑی بھی گیلی ہو گی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 468
عمر دھویں سے پیلی ہو گی
یہ لکڑی بھی گیلی ہو گی
موت مرا معمول رہے گا
کوئی کہاں تبدیلی ہو گی
پھیل رہا ہے سرد رویہ
رات بڑی برفیلی ہو گی
ہجر کا اپنا ایک نشہ ہے
غم کی شام نشیلی ہو گی
میں نے سگریٹ سلگانا ہے
ماچس میں اک تیلی ہو گی
غالب کے قہوہ خانے میں
بات ذرا تفصیلی ہو گی
اچھی طرح سے بال سکھا لے
تیز ہوا سردیلی ہو گی
ہفتوں بعد ہے نکلا سورج
دھوپ بہت نوکیلی ہو گی
کال آئی ہے امریکہ سے
موسم میں تبدیلی ہو گی
گرم دسمبر کے پہلو میں
جسم کی آگ لجیلی ہو گی
نوٹ پیانو کے سُن سُن کر
رم جھم اور سریلی ہو گی
دن بھی ہو گا آگ بگولا
رات بھی کالی نیلی ہو گی
اک اتوار ملے گی مجھ سے
اور بڑی شرمیلی ہو گی
شعر بنانا چھوڑ دے لیکن
یہ منصور بخیلی ہو گی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s