یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 231
اجنبی ہے کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
یہ تو منصور کا چہرہ نہیں لگتا مجھ کو
اتنے ناپاک خیالات سے لتھڑی ہے فضا
حرفِ حق کہنا بھی اچھا نہیں لگتا مجھ کو
قتل تو میں نے کیا رات کے کمرے میں اسے
اور یہ واقعہ سپنا نہیں لگتا مجھ کو
پھر قدم وقت کے مقتل کی طرف اٹھے ہیں
یہ کوئی آخری نوحہ نہیں لگتا مجھ کو
وقت نے سمت کو بھی نوچ لیا گھاس کے ساتھ
چل رہا ہوں جہاں رستہ نہیں لگتا مجھ کو
کیسی تنہائی سی آنکھوں میں اتر آئی ہے
میں ہی کیا کوئی اپنا نہیں لگتا مجھ کو
موت کا کوئی پیالہ تھا کہ وہ آبِ حیات
جسم سقراط کا مردہ نہیں لگتا مجھ کو
اب تو آنکھیں بھی ہیں سورج کی طنابیں تھامے
اب تو بادل بھی برستا نہیں لگتا مجھ کو
ٹین کی چھت پہ گرا ہے کوئی کنکر منصور
شور ٹوٹے ہوئے دل کا نہیں لگتا مجھ کو
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s