یہی زندگی ہے اپنی، یونہی آنسوئوں میں رہنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 50
کبھی بارشوں سے بہنا، کبھی بادلوں میں رہنا
یہی زندگی ہے اپنی، یونہی آنسوئوں میں رہنا
کبھی یونہی بیٹھے رہنا تری یاد کے کنارے
کبھی رات رات بہتے ہوئے پانیوں میں رہنا
کبھی سات رنگ بننا کسی ابرِ خوشنما کے
کبھی شاخ شاخ گرتی ہوئی بجلیوں میں رہنا
مجھے یاد آ رہا ہے ترے ساتھ ساتھ شب بھر
یونہی اپنے اپنے گھر کی کھلی کھڑکیوں میں رہنا
مجھے لگ رہا ہے جیسے کہ تمام عمر میں نے
ہے اداس موسموں کے گھنے جنگلوں میں رہنا
یہ کرم ہے دلبروں کا، یہ عطا ہے دوستوں کی
مرا زاویوں سے ملنا یہ مثلثوں میں رہنا
ابھی اور کچھ ہے گھلنا مجھے ہجر کے نمک میں
ابھی اور آنسوئوں کے ہے سمندروں میں رہنا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s