یعنی ہجراں کا بدن مثلِ سحر نازل ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 67
اک مسلسل رتجگا سورج کے گھر نازل ہوا
یعنی ہجراں کا بدن مثلِ سحر نازل ہوا
زندگی میری رہی مثبت رویوں کی امیں
میری آنکھوں پر مرا حسن نظر نازل ہوا
اس پہ اترا بات کو خوشبو بنا دینے کا فن
مجھ پہ اس کو نظم کرنے کا ہنر نازل ہوا
کوئی رانجھے کی خبر دیتی نہیں تھی لالٹین
خالی بیلا رات بھر بس ہیر پر نازل ہوا
اس محبت میں تعلق کی طوالت کا نہ پوچھ
اک گلی میں سینکڑوں دن کا سفر نازل ہوا
وقت کی اسٹیج پر بے شکل ہو جانے کا خوف
مختلف شکلیں بدل کر عمر بھر نازل ہوا
جاتی کیوں ہے ہر گلی منصور قبرستان تک
یہ خیالِ زخم خوردہ دربدر نازل ہوا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s