یعنی کہ فلک سارا پتنگوں سے بھرا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 85
پیچوں سے اٹا دل مرا ، جنگوں سے بھرا تھا
یعنی کہ فلک سارا پتنگوں سے بھرا تھا
داتا علی ہجویری کا تھا عرس مبارک
لاہور محمدﷺ کے ملنگوں سے بھرا تھا
نکلا تھا گلستاں سے مگرخار کے ہمراہ
خوشبو کا وہ جھونکا کئی رنگوں سے بھرا تھا
اک، پاؤں کسی جنگ میں کام آئے ہوئےتھے
اک راستہ بارودی سرنگوں سے بھرا تھا
اونچائی سے یک لخت کوئی لفٹ گری تھی
اور لوہے کا کمرہ بھی امنگوں سے بھرا تھا
منصور فقط ہم ہی نہیں بہکے ہوئے تھے
بازارِ غزل سارا تلنگوں سے بھرا تھا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s