یعنی ماہتابوں کے گھر بدلتے رہتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 389
کھڑکیاں بدلتی ہیں ، در بدلتے رہتے ہیں
یعنی ماہتابوں کے گھر بدلتے رہتے ہیں
موسموں کی تبدیلی معجزے دکھاتی ہے
جسم ایک رہتا ہے سر بدلتے رہتے ہیں
وہ بچھڑ بھی سکتا ہے، میں بدل بھی سکتا ہوں
کیا کریں محبت کے ڈر بدلتے رہتے ہیں
کائنات کا پنجرہ کوئی در نہیں رکھتا
اور ہم پرندوں کے پر بدلتے رہتے ہیں
ارتقاء کے پردے میں کیا عجیب صورت ہے
ہم نہیں بدل سکتے، پر، بدلتے رہتے ہیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s