یعنی قربانی کرتا ہوا شیر تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 96
اک سیہ بھیڑ تھی اک سیہ شیر تھا
یعنی قربانی کرتا ہوا شیر تھا
بلی کوبادشہ کیسے مانے وہ شخص
جس کی آنکھوں میں شیرِ خدا شیر تھا
شہر میں ہو گیا ہے درندہ صفت
جنگلوں میں مہذب ذرا شیر تھا
نوکری پیشہ یعنی کہ سرکس زدہ
لومڑی کا کوئی دلربا شیر تھا
ایک گیڈر جو گلیوں سے گزرا مری
شور اٹھا شیر تھا شیر تھاشیر تھا
ڈھاڑتا تھاجو منصور کو دیکھ کر
آدمی تھا کوئی ناطقہ شیر تھا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s