ہے ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر تسلی رکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 410
طویل و تیرہ سہی شب مگر تسلی رکھ
ہے ساتھ ساتھ کوئی ہمسفر تسلی رکھ
اسے گزرنا انہی پتھروں سے ہے آخر
اومیری شوق بھری رہگزر تسلی رکھ
ابھی سے صبحِ جدائی کا خوف کیا کرنا
ہے مہتاب ابھی بام پر تسلی رکھ
کسی کا ساتھ گھڑی دو گھڑی بھی کافی ہے
او زندگی کی رہِ مختصر تسلی رکھ
نہیں نکلتی ترے منظروں سے بینائی
یہیں کہیں ہے ، گرفتِ نظر تسلی رکھ
شکست عشق میں ہوتی نہیں کبھی منصور
یہ ہار ، ہار نہیں ، ہار کر تسلی رکھ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s