ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 229
بھردیا اجنبی فضاؤں کو
ہم نے ابلاغ سے خلاؤں کو
آخری سانس تک لڑیں گے ہم
پھر دیوں نے کہا ہواؤں کو
لوگ ابلیس سے بھی بڑھ کے ہیں
پوجتے ہیں کئی خداؤں کو
سانپ بننے لگی ہے شاخِ گل
دھوپ ڈسنے لگی ہے چھاؤں کو
دشتِ غم سے نکال لائے ہیں
چومتے ہیں ہم اپنے پاؤں کو
دے گئی پھر سنبھالاموسیقی
اور دعادی غزل سراؤں کو
اپنے خالی گھڑے لئے منصور
کوئی دریا چلا ہے گاؤں کو
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s