ہم آشنا نہیں ہیں ابھی تک پریم سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 533
برما بہارِ جاں کو بدن کے بریم سے
ہم آشنا نہیں ہیں ابھی تک پریم سے
کچھ دیر ہی رکھی ترے نعلین پر نگاہ
باہر نکل نکل پڑیں صدیاں فریم سے
پھر چل پڑے ٹھٹھرتی ہوئی روشنی کے ساتھ
کچھ پہلے گفتگو کی دریائے ٹیم سے
آباد صادقین کی رنگوں بھری زمیں
فرہنگِ تھور سے کہیں آہنگِ سیم سے
بٹوارہ ہو رہا تھا ہواؤں کا پارک میں
یہ اور بات پھول ہی باہر تھے گیم سے
ٹوٹے ہوئے مکان میں کھلتا ہوا گلاب
اک جھوپڑی کی جیسے ملاقات میم سے
اِک خامشی نگار کو روکے کہاں تلک
یہ شور،جائیدادِ سخن کے کلیم سے
منصورہم فقیرہیں ،کرتے نہیں کلام
عورت سے،مال و زر سے،حکومت سے فیم سے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s