گماں یقین کی ساعت سے سرفراز ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 58
شعورِ عشقِ محمدﷺ مری نماز ہوا
گماں یقین کی ساعت سے سرفراز ہوا
تُو کائنات کا خالق ہے مانتا ہوں مگر
مرا وجود تری ذات کا جواز ہوا
ترے لبوں کی کرم بار مسکراہٹ سے
نیاز مند خدائی سے بے نیاز ہوا
میں رک گیا تھا جدائی کے جس جہنم میں
وہ انتظارِ قیامت سے بھی دراز ہوا
مرے سجود کی منزل ہے میری تنہائی
میں اپنی ذات کا خود ہی حریمِ ناز ہوا
پلک پلک پہ سجاتا ہے آنسوئوں کے چراغ
مزاجِ چشم سراپا مری بیاض ہوا
پڑی نگاہِ محمد جہاں کہیں منصور
ہر ایک ذرہ وہیں زندگی نواز ہوا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s