کیا جانے کس اور گئے ہیں خوابوں کے مہمان

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 11
نکھری صبحیں ، بکھری شامیں ، راتیں ہیں سنسان
کیا جانے کس اور گئے ہیں خوابوں کے مہمان
سرمایہ ہیں تیرے سپنے ، حاصل تیرے خواب
تیری یاد کا چہرہ میری ذات کی ہے پہچان
کاش کوئی آ،تاپے اپنی نرم و ملائم شام
روح میں جلتا دیکھوں دن بھر غم کا آتش دان
کس کا چہرہ جنس زدہ ہے ، کس کا جسم غلیظ
کون زمیں کی پیٹھ پہ پھوڑا تُو یا پاکستان
تیس برس کی اک لڑکی کا جیسے کومل جسم
دوبالشت جب ہوجائے منصور سنہری دھان
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s