کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 335
اِدھر نہ آئیں ہواؤں سے کہہ رہا ہوں میں
کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں
طلوعِ وصل کی خواہش بھی تیرہ بخت ہوئی
فراقِ یار کے پہلو میں گہہ رہا ہوں میں
مرا مزاج اذیت پسند ہے اتنا
ابھی جو ہونے ہیں وہ ظلم سہہ رہا ہوں میں
مجھے بھلانے کی کوشش میں بھولتے کیوں ہو
کہ لاشعور میں بھی تہہ بہ تہہ رہا ہوں میں
گھروں کے بیچ اٹھائی تھی جو بزرگوں نے
کئی برس سے وہ دیوار ڈھ رہا ہوں میں
کنارِ اشکِ رواں توڑ پھوڑ کر منصور
خود آپ اپنی نگاہوں سے بہہ رہا ہوں میں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s