کہ خالی بھیج دیا عید کاڈ اُس نے بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 478
مری طرح سے کیا ہے فراڈ اُس نے بھی
کہ خالی بھیج دیا عید کاڈ اُس نے بھی
مجھے بھی ضد ہے مسیحا کے دل میں رہنے کی
تہی رکھا ہے مریضوں سے واڈ اُس نے بھی
پہن لی جسم پہ میں نے بھی کھال چیتے کی
سیاہ فام رکھا باڈی گاڈ اُس نے بھی
مجھے بھی شوق ہے نخروں کا چانج کرنے کا
ہزار دیکھے ہیں بچپن میں لاڈ اُس نے بھی
مجھے بھی بیچنا آزادی کا مجسمہ ہے
فروخت کرنا ہے لینن گراڈ اُس نے بھی
نکل گیا تھا بڑھا کے سپیڈ میں جس پر
خرید لی وہی ہنڈا اکاڈ اُس نے بھی
گھری تھی غنڈوں میں رضیہ وہاں مگر منصور
بس اندھا دھند گھمائی تھی راڈ اُس نے بھی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s