کہ اوس اوس کلی بے لباسیوں سے ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 447
وہ بر گزیدہ خطا رات عاصیوں سے ہوئی
کہ اوس اوس کلی بے لباسیوں سے ہوئی
ہر ایک صبح منور ہوئی ترے غم سے
ہر ایک شام فروزاں اداسیوں سے ہوئی
میں کھوجنے کے عمل میں شکار اپنا ہوا
مری اکیلگی چہرہ شناسیوں سے ہوئی
لپک کے بھاگ بھری نے کسی کو چوم لیا
گھٹا کی بات جو روہی کی پیاسیوں سے ہوئی
بہت سے داغ اجالوں کے رہ گئے منصور
جہاں میں رات عجب بد حواسیوں سے ہوئی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s