کہیں بے کسی کا کلام ہوں کہیں دل کے روگ کی چیخ ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 284
میں کوئی اداس سکوت ہوں میں کسی بروگ کی چیخ ہوں
کہیں بے کسی کا کلام ہوں کہیں دل کے روگ کی چیخ ہوں
کہیں ٹوٹ پھوٹ نہ جائے وہ مجھے آسمان کا خوف ہے
کوئی آہ ہوں میں فقیر کی ،کسی’ اللہ لوگ‘ کی چیخ ہوں
مرے صحنِ دل میں پڑی ہوئی بڑی خوفناک سی شام ہے
کوئی بین ہوں کسی رات کا کسی تازہ سوگ کی چیخ ہوں
کبھی حسرتوں کے زبان سُن کبھی اشک و آہ کی تان سُن
کبھی بھیرویں کا الاپ میں کبھی راگ جوگ کی چیخ ہوں
کبھی گفتگو کروں نرگ سے کبھی بات چیت سورگ سے
کوئی ڈائیلاگ ہوں کشف کا،میں کسی ابھوگ کی چیخ ہوں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s