کچھ سوچتے نہیں ہیں کفن بیچتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 510
یہ بے ضمیر قوم و وطن بیچتے ہوئے
کچھ سوچتے نہیں ہیں کفن بیچتے ہوئے
کچھ دیکھتے کہاں ہیں یہ سوداگرانِ خاک
دریا، پرند، برگ و سمن بیچتے ہوئے
گنتے ہیں غیر ملکی کرنسی کے صرف نوٹ
حکام بیٹیوں کے بدن بیچتے ہوئے
خوش ہیں امیر شہر محلات میں بہت
ابلیس کو دیارِ عدن بیچتے ہوئے
اس عہدِ زر پرست کی آواز بن گئے
اپنے قلم کو اہلِ سخن بیچتے ہوئے
ہیں اہتمامِ رقصِ طوائف میں منہمک
منصور باغبان چمن بیچتے ہوئے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s