کوہ کی بازگشتوں میں اک راز موجود ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 611
چیخ کے دائرے میں تگ و تاز موجود ہے
کوہ کی بازگشتوں میں اک راز موجود ہے
ویری سوری کہ تیری سماعت کا ہے مسئلہ
میری خاموشی میں میری آواز موجود ہے
وقت کرتالب و لہجے کی صرف کاپی نہیں
اس کے چلنے میں بھی میرا انداز موجود ہے
خواہشِ زلف دستِ بریدہ سے جاتی نہیں
ٹوٹے پیروں میں بھی شوقِ پرواز موجود ہے
خاتمہ کی کہانی فسانہ ہے امکان کا
ہر نہایت پہ اک اور آغاز موجود ہے
خاکِ منصور!تجھ پہ کوئی حرف کیا آئیگا
تیرے پہلو میں یہ تیرا جاں باز موجود ہے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s