کون عریاں ہے نگاہوں میں سیہ جین پہن کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 174
فلم چلتی ہے مسلسل وہی اک سین پہن کر
کون عریاں ہے نگاہوں میں سیہ جین پہن کر
کوئی کمرہ مرے پاؤں پہ اترتا ہی نہیں ہے
سیڑھیاں چلتی چلی جاتی ہیں قالین پہن کر
ہوتے رہتے ہیں جہازوں کے بڑے حادثے لیکن
کرتا رہتا ہوں سفر سورتِ یٰسین پہن کر
نرمگی اس کی ابھر آئی تھی ملبوس سے باہر
کتنی نازک سی سکرٹ آئی تھی نرمین پہن کر
تم مرے ہونٹوں کی کیا پیاس بجھا سکتی ہو وینس
میرا پیاسا ہے بدن، آبِ ابا سین پہن کر
ہیں خدائی کا مسائل کہ سرِ راہ پڑے ہیں
اک تماشے کا لبادہ سا فراعین پہن کر
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s