کون سی شے میرے کمرے کی طرف لائی اسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 545
جاگتے دل کی تڑپ یا شب کی تنہائی اسے
کون سی شے میرے کمرے کی طرف لائی اسے
اس قدر آنکھوں کو رکھنا کھول کر اچھا نہیں
لے گئی تاریکیوں میں اس کی بینائی اسے
ڈوبنا اس کے مقدر میں لکھا ہے کیا کروں
اچھی لگتی ہے مری آنکھوں کی گہرائی اسے
بجھ گیا تھا چاند گہرے پانیوں میں پچھلی رات
ڈھانپتی اب پھر رہی ہے دور تک کائی اسے
جو برہنہ کر گیا ہے ساری بستی میں مجھے
میں نے اپنے ہاتھ سے پوشاک پہنائی اسے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s