کلیدِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 423
نجاتِ خلقتِ جاں لا الہ الا اللہ
کلیدِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ
یہ خوفِ آتشِ دوزخ یہ خطرۂ ابلیس
وہاں کہاں کہ جہاں لا الہ الا اللہ
بگاڑ سکتی ہے کیا اس کا چرخ کی گردش
ہے جس کی جائے اماں لا الہ الا اللہ
یہ جائیدادِ جہاں کچھ نہیں ہے اُس کے لئے
ہے جس کے دل میں نہاں لا الہ الا اللہ
یہ کائنات یہ عالم نہیں وہاں باہو
جہاں جہاں پہ عیاں لا الہ الا اللہ
سلطان باہو کی فارسی غزل کا ترجمہ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s