کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 346
جس کاپھرہو گیا اک بوسہ ء پُرجوش سے میں
کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں
سرد آنکھوں میں فقط موت کی ویرانی تھی
کب تلک بولتااُس چہرئہ خاموش سے میں
چاہتا ہوں کہ اٹھا لوں اے مری زیست گزار
بوجھ بے رحم مسائل کاترے دوش سے میں
کیا کوئی تیرے اندھیروں سے نکل سکتا ہے
پوچھ سکتا تو ہوں اُس چشمِ سیہ پوش سے میں
اک طرف پڑتی رہی منظرِجاناں پہ چمک
اک طرف آتا رہا جاتا رہا ہوش سے میں
رات کھو جاؤں میں لتا کے سریلے پن میں
صبح آغاز کروں نغمہ ء گوگوش سے میں
اُس بلندی پہ کہاں ہاتھ پہنچنا تھا مگر
دیکھتا چاند رہا دیدئہ مے نوش سے میں
کیسی ہوتی ہے کسی دورِسگاں کی وحشت
پوچھنا چاہتا ہوں یہ کسی خرگوش سے میں
یہ روایت ہے مرے عہدِسخن پیشہ کی
کرلوں بس صدرنوازی ذرا پاپوش سے میں
ہر طرف ایک جہنم تھا ستم کا منصور
جب نکالا گیا باہر تری آغوش سے میں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s