ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 297
تیرے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں
ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں
سچ نکلتا ہی نہیں لفظ کے گھر سے ورنہ
چوک میں لوگ کتابوں کو جلانے لگ جائیں
یہ عجب ہے کہ مرے بلب بجھانے کے لیے
آسماں تیرے ستاروں کے خزانے لگ جائیں
خوبصورت بھی، اکیلی بھی، پڑوسن بھی ہے
لیکن اک غیر سے کیاملنے ملانے لگ جائیں
نیک پروین ! تری چشمِ غلط اٹھتے ہی
مجھ میں کیوں فلم کے سنسر شدہ گانے لگ جائیں
پل کی ریلنگ کو پکڑ رکھا ہے میں نے منصور
بہتے پانی مجھے دیکھیں تو بلانے لگ جائیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s