چہرے کے ڈوبتے ہوئے فردوس کو اجال

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 10
اے میری نرم گرم بہشتِ جوان سال
چہرے کے ڈوبتے ہوئے فردوس کو اجال
ہنزہ کے نور سیبو ! دسمبر کی نرم دھوپ
نارنجی کر رہی ہے تمہارے سفید گال
کچھ فیض قربتوں کے بھی ہوتے تو ہیں مگر
ہے بند پارٹنر سے ابھی تک تو بول چال
لب پر ہیں قہقہے کسی ناکام ضبط کے
دل میں بھرا ہوا ہے قیامت کا اک ملال
ہر چند گفتگو ہے توسط سے فون کے
لیکن نگاہ میں ہیں خیالوں کے خدو خال
کیا کھولتی ہو پوٹلی ان پڑھ فقیر کی
بازار سے خرید کے لایا ہوں کچھ سوال
منصور احتیاط سے چاہت کے بول، بول
لڑکوں سے اس کے کام ہیں مردوں سے اس کے بال
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s