پھر مری مجذوبیت افلاک کی گاہک ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 441
نیلگوں دیوار پر اک بے صدا دستک ہوئی
پھر مری مجذوبیت افلاک کی گاہک ہوئی
پھر مجھے ابدال ہونے کا یقیں ہونے لگا
جب تلاش اپنی مکمل عرش کی حدتک ہوئی
میری چیخیں اپنی دھڑکن میں چھپا لیتی رہی
کس قدر اپنی سلگتی خامشی زیرک ہوئی
چاند تارے حسنِ فطرت کے تحائف ہو گئے
آسماں پر جب مکمل رات کی کالک ہوئی
میں نے جب سوچا، نہیں کوئی نہیں اسکا شریک
وہم ٹھہرا جسم اپنا جاں سراپا شک ہوئی
جس کے چاروں سمت ڈھلوانیں ہوں منہ کھولے ہوئے
زندگی اپنی وہی وحشت زدہ بالک ہوئی
ہم نفس میرے رہے منصور سقراط و حسین
روشنی مذہب ہوا اور چاندنی مسلک ہوئی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s