پھر آنسوئوں کا وہ اسراف کر رہا ہے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 437
دریچے یاد کے شفاف کر رہا ہے کوئی
پھر آنسوئوں کا وہ اسراف کر رہا ہے کوئی
نکھرتی جاتی ہے شبنم اداس آنکھوں میں
کسی گلاب کو سی آف کر رہا ہے کوئی
گرا رہے ہیں در و بام چند بلڈوزر
سنا ہے شہر مرا ، صاف کر رہا ہے کوئی
بتا رہا ہے بدن کی نزاکتوں کا ناپ
بیان حسن کے اوصاف کر رہا ہے کوئی
بڑھا رہا ہے سرِشام وصل کی خواہش
وہ روشنی کا سوئچ آف کر رہا ہے کوئی
وہ لکھ رہا ہے کہ کرنا ہے رات کو کیا کیا
شبِفراق کا اصراف کر رہا ہے کوئی
بڑھارہا ہے محبت کے وائرس منصور
شبِ وصال سے انصاف کر رہا ہے کوئی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s