پر طاقِ شب تنہائی میں اک شمع مسلسل جلتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 594
ہر شام شعاعیں بجھتی ہیں ہر صبح سیاہی ڈھلتی ہے
پر طاقِ شب تنہائی میں اک شمع مسلسل جلتی ہے
کچھ رنگ اِدھر سے آتے ہیں کچھ رنگ اُدھر سے جاتے ہیں
تاریکی دباتی ہے پاؤں جب روشنی پنکھا جھلتی ہے
تجدید محبت کی کوشش بے سود ہے مجھکو بھول بھی جا
کب راکھ سے شعلے اٹھتے ہیں کب ریت میں کشتی چلتی ہے
یہ کس نے حسیں دوشیزہ کے خوابوں کا تسلسل توڑ دیا
اب چونک کے نیند سے اٹھی ہے گھبرا کے وہ آنکھیں ملتی ہے
ہم لوگ ستم کے شہروں میں مصروف عمل ہیں زیرِ زمیں
آغوشِ شبِ نادیدہ میں تحریک سحر کی پلتی ہے
کیوں اس کا لکھا ہے نام بتا۔۔اس شہر کی سب دیواروں پر
ناراض یونہی وہ شخص نہیں منصوریہ تیری غلطی ہے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s