پروازِ مسلسل میں ہیں ، براق نشیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 373
الفاظ پہن کر ہمی اوراق نشیں ہیں
پروازِ مسلسل میں ہیں ، براق نشیں ہیں
یہ بات الگ روشنی ہوتی ہے کہیں اور
ہم مثلِ چراغِ شبِ غم طاق نشیں ہیں
سورج کی طرف دیکھنے والوں کی قسم ہم
اک خوابِ عشاء اوڑھ کے اشراق نشیں ہیں
چاہیں تو زباں کھینچ لیں انکار کی ہم لوگ
بس خوفِ خدا ہے ہمیں ، اشفاق نشیں ہیں
آتی ہیں شعاعوں سے انا الحق کی صدائیں
ہم نورِ ہیں منصور ہیں آفاق نشیں ہیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s