وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 462
قربانی کر قبول، اے مولا شہید کی
وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی
اب تو معاف امتِ وسطی کا جرم کر
کر دے جہاں میں ختم حکومت یزید کی
روہی کی ایک صبح کا درشن سا ہو گیا
میں سن رہا تھا رات کو کافی فرید کی
آتی ہوئی رتوں کا کسی کو نہیں خیال
کرتے ہیں گفتگو سبھی ماضی بعید کی
لعنت ہزار ایسی حکومت پہ بار بار
جمہوریت کی اس نے ہے مٹی پلید کیٍ
لے کر ہوا اڑے گی کسی روز تو اسے
میں نے تمام عمر جو خوشبو کشید کی
میں پڑھ رہا ہوں پچھلے زمانے کی سرگزشت
میں نے مگرکتاب غزل کی خرید کی
منصور بے چراغ مکانوں کی سمت دیکھ
وہ سو گئی ہے آخری بستی امید کی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s